ہیں کہ اب ہمارا کام نہیں ہوگا اور واپس گھر آگئے ،ایک شخص صبح سویر ے اپنی دکان کھولنے جاتاہے راستہ میں کوئی حادثہ پیش آیا تو سمجھ لیتاہے کہ آج کا دن میرے لیے منحوس ہے لہٰذا آج مجھے نقصان ہوگا یوں ان کا نظامِ زندگی درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے ٭کسی کے گھر پراُلّو کی آواز سن لی تو اِعلان کردیا کہ اس گھر کا کوئی فرد مرنے والا ہے یا خاندان میں جھگڑا ہونے والاہے ،جس کے نتیجے میں اس گھروالوں کے لئے مصیبت کھڑی ہوجاتی ہی٭نیا ملازم اگر کاروباری ڈِیل نہ کرپائے اور آرڈر ہاتھ سے نکل جائے تو فیکٹری مالک اسے منحوس قرار دے کر نوکری سے نکال دیتا ہے ٭ نئی دلہن کے ہاتھوں اگر کوئی چیز گرکر ٹُوٹ پُھوٹ جائے تو اس کو منحوس سمجھاجاتاہے اور بات بات پر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بَدشگونی اور طرح طرح کے ظاہِری وباطِنی گناہوں سے بچنے کا جذبہ پانے کے لئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کسی نعمتِ عُظمٰی سے کم نہیں ، اِس سے ہر دَم وابَستہ رہئے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس سے مُنسلک(مُنْ۔سَ۔لک) ہونے والوں کی زندَگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں بلکہ مَدَنی اِنقلاب برپا ہو جاتاہے ۔اِس ضِمن میں ایک مَدَنی بہار مُلاحَظہ ہو ، چُنانچِہ