ہے : ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ لَمْ یَنَلِ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مَنْ تَکَہَّنَ أَوِ اسْتَقْسَمَ اَوْ رَدَّہُ مِنْ سَفَرِہٖ طِیَرَۃٌ یعنی تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا {۱}جو اپنی اَٹکل سے غیب کی خبر دے (یعنی آیندہ کی بات بتائے)یا{۲}فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرے یا{۳}بَد شگونی کے سبب اپنے سفر سے رُک جائے۔(تاریخ ابن عساکر،رجاء بن حیوۃ،۱۸/۹۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بَدشگونی کے بھیانک نتائج
٭بَدشگونی کا شکار ہونے والوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اِعتماد اور توکُّل کمزور ہوجاتاہے ٭اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں بَدگمانی پیداہوتی ہے ٭ تقدیر پر ایمان کمزور ہونے لگتا ہے ٭شیطانی وَسْوَسوں کا دروازہ کھلتاہے٭بَدفالی سے آدمی کے اندر توہُّم پرستی ، بُزدلی، ڈر اور خوف ، پَست ہمتی اورتنگ دلی پیدا ہوجاتی ہے ٭ناکامی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلاً کام کرنے کا طریقہ دُرُست نہ ہونا، غَلَط وَقْت اور غَلَط جگہ پر کام کرنااور ناتجربہ کاری لیکن بَدشگونی کا عادی شخص اپنی ناکامی کا سبب نُحوست کو قرار دینے کی وجہ سے اپنی اِصلاح سے محروم رہ جاتا ہے ٭بَدشگونی کی وجہ سے اگر رشتے ناطے توڑے جائیں تو آپس کی ناچاقیاں جنم لیتی ہیں٭جو لوگ اپنے اوپر بَدفالی کا دروازہ کھول لیتے ہیں انہیں ہرچیز منحوس نظر آنے لگتی ہے ، کسی کام کے لیے گھر سے نکلے اور کالی بلی نے راستہ کاٹ لیا تویہ ذہن بنالیتے