Brailvi Books

بدشگونی
19 - 127
بَدبختی وبَدنصیبی اسی کے گِرد جمع ہوچکی ہے اور دوسرے لوگ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا شخص اپنے پیاروں  کو بھی وہمی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے دلوں  میں  کَدُورَت(یعنی دشمنی) پیدا ہوتی ہے ۔ بَدشگونی کی باطنی بیماری میں  مبتلا انسان ذہنی وقلبی طور پر مَفْلُوج(یعنی ناکارہ) ہوکر رہ جاتا ہے اور کوئی کام ڈَھنگ سے نہیں  کرسکتا ۔ امام ابوالحسن علی بن محمد ماوردی علیہ رحمۃُ اللہِ القویلکھتے ہیں :اِعْلَمْ اَ نَّہ لَیْسَ شَیْئٌ اَضَرَّ بِالرَّأْئیِ وَلَا اَ فْسَدَ لِلتَّدبِیرِ مِن اِعتِقَادِ الطِّیَرَۃِ جان لو!  بَدشگونی سے زیادہ فِکْر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں ہے ۔ (ادب الدنیا والدین، ص ۲۷۴)
	کثیر احادیثِ مبارکہ میں  بھی بَدشگونی کے نقصانات سے خبردار کیا گیا ہے چنانچہ 
(۱)  وہ ہم میں  سے نہیں  
	حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے بَدفالی لینے والوں  سے اپنی بیزاری کا اِظہاران الفاظ میں  فرمایا:لَیسَ مِنَّا مَن تَطَیَّرَ وَلَاتُطُیِّرَ لَہ یعنی جس نے بَدشگونی لی اور جس کے لیے بَدشگونی لی گئی وہ ہم میں  سے نہیں  ہے (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں  ہے ) ۔(المعجم الکبیر، ۱۸/۱۶۲، الحدیث۳۵۵ و فیض القدیر، ۳/۲۸۸،تحت الحدیث: ۳۲۰۶)
(۲)  بلند درجوں  تک نہیں  پہنچ سکتا 
	شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان