’’لاحَول شریف‘‘پانی پر دم کرکے پی لیا کرے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وسوسۂ شیطانی سے بَہُت حد تک اَمن میں رہے گا ۔‘‘ (مراٰۃالمناجیح،۱ /۸۷ )
مُحیط دل پہ ہوا ہائے نفسِ اَمّارہ دِماغ پر مرے ابلیس چھا گیا یاربّ
رِہائی مجھ کو ملے کاش! نفس و شیطاں سے
ترے حبیب کادیتا ہوں واسِطہ یاربّ (وسائلِ بخشش، ص ۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اگر وَسْوَسے کسی صُورت نہ جائیں تو …
اگر وَظائف و اعمال سے شیطان کے وَسوسوں سے چھٹکارا نہ ہو تو گھبرانے کی ضَرورت نہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ مِنہاجُ العابِدین میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نے جو کچھ فرمایااس کاخُلاصہ ہے: اگرآپ یہ محسوس کریں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگنے کے باوُجُودشیطان پیچھا نہیں چھوڑرہا اور غالب آنے کی کوشش میں ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجلَّ کوآپ کے مُجاہَدے، قُوَّت اور صبر کا اِمتحان مَطْلُوب ہے، یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ آزمارہا ہے کہ آپ شیطان سے مقابَلہ اور مُحارَبہ(یعنی جنگ) کرتے ہیں یا اس سے مَغلوب ہو(یعنی ہار)جاتے ہیں۔ ( مِنہاجُ العابِدین(عربی)، ص۴۶)
{وسوسوں کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے ’’وسوسوں کا علاج‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )کا مطالعہ کیجئے}