میں شادی کو منحوس جاننا ،عورت گھر اور گھوڑے کو منحوس سمجھنا وغیرہ ۔
٭ اِستخارہ کرنا جائز ومستحسن ہے ۔
٭نظر لگنا ایک حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
٭اسلامی عقائد کی معلومات حاصل کرکے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ پر سچا توکُّل کرکے ، بَدشگونی کے تقاضے پر عمل نہ کرکے اور مختلف وظائف کے ذریعے بَدشگونی کا علاج کیاجاسکتا ہے ۔
تفصیلات کے لئے کتاب کا مکمل مطالعہ کیجئے
زاہد کون؟
امیرُ الْمُؤْمِنِین حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ مُشکل کُشا،علیُّ الْمُرتَضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:’’ اگر کوئی شخص تمام رُوئے زمین کا مال حاصل کرے اور اس کا اِرادہ رضائے خداوندی کا حُصول ہو تو وہ زاہِد ہے اور اگر سارا مال چھوڑ دے لیکن رضائے خداوندی مقصود نہ ہو تو وہ زاہِد نہیں ہے۔‘‘(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۳۲۴تا۳۲۵ملخصًا)