مراٰۃُ المناجیح میں ہے:نیک فال لینا سنت ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے امید ہے اور بدفالی لینا ممنوع کہ اس میں رب(عزوجل) سے نا اُمّیدی ہے۔اُمّید اچھی ہے نااُمّیدی بُری،ہمیشہ رب سے اُمّید رکھو۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/۲۵۵)
خلاصۂ کتاب
٭کسی شخص ،جگہ ، چیز یا وَقْت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصوُّر نہیں یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں ۔
٭شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز ،شخص، عمل،آواز یا وَقْت کو اپنے حق میں اچھا یابُرا سمجھنا ۔اگر اچھا سمجھا تو اچھا شگون یا نیک فال ہے اور اگر بُرا سمجھا تو بَدشگونی ہے۔
٭ نیک فال لینا مُسْتَحَبہے ،بَدفالی(یا) بَدشگونی لینا شیطانی کام ہے ۔
٭بَدشگونی پر گناہ اس وَقْت ہوگا جب اس کے تقاضے پر عمل کر لیا اور اگر اس خیال کو کوئی اہمیت نہ دی تو کوئی اِلزام نہیں ۔
٭بَدشگونی لینا عالَمی بیماری ہے ،مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں سے بَدشگونیا ں لیتے ہیں۔
٭بَدشگونی انسان کے لئے دینی و دُنیوی دونوں اعتبار سے بے حد خطرناک ہے ۔
٭بَدشگونی سے اِیمان بھی ضائع ہوسکتا ہے۔
٭بَدشگونی لینا مسلمان کو زیب نہیں دیتا بلکہ یہ غیرمسلموں کا پُرانا طریقہ ہے ۔
٭ دورِ حاضِر میں بھی بہت سے غَلَط سَلط اِعتقادات،توھُّمات اور ناجائز رُسومات زور پکڑتی جا رہی ہیں جن کا تعلق بَدشگونی سے بھی ہوتا ہے مثلاً ماہِ صفر کو منحوس جاننا، چھینک کو منحوس جاننا ،ستاروں کے اثرات پر یقین رکھنا ،مسلسل بیٹیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا ،گھر میں پپیتہ کا دَرَخْت لگانے کو منحوس سمجھنا ،شوال یا مخصوص تاریخوں