Brailvi Books

بدشگونی
119 - 127
ان کی تشریف آوری فالِ حَسَن (یعنی نیک شگون) تھی ۔ میں  نے ان سے بھی دُعا کو کہا ، انہوں  نے بھی دُعا فرمائی۔مجھے مکان سے باہر آئے شایدد س منٹ ہوئے ہوں  گے ، اب جو مکان میں  جاکر دیکھا بِحَمْدِ اللہسب کو ایسا تَندُرُسْت (تَن ۔دُرُسْت) پایا کہ گویا مَرَض ہی نہ تھا ، درد وغیرہ کیسا!اس کا ضُعْف بھی نہ رہا۔سب ڈھائی تین میل پِیادَہ (یعنی پیدل) چل کر سَمُنْدَر (سَمُن ۔دَر)کے کنارے پہنچے ۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص۱۸۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بَدشگونی اور اچھے شگون میں  فرق
	 ان دونوں  میں  بنیادی فرق یہ ہے کہ بَدشگونی لینا شَرْعاً ممنوع اور اچھا شگون لینا مُسْتَحَبہے ، اس کے علاوہ٭اچھا شگون لینا ہمارے مَدَنی سرکارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقہ ہے جبکہ بَدشگونی کفارِ ناہنجار کا شیوہ ہے ٭اچھا شگون لینے سے اللہ عَزَّوَجَلَّکے رحم و کرم سے اچھائی اور بھلائی کی امید ہوتی ہے جبکہ بَدشگونی سے ناامیدی پیدا ہوتی ہی٭نیک فال سے دل کو اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے جو ہرکام کی جدوجہد اور تکمیل کے لیے ضَروری ہے جبکہ بَدشگونی سے بلاوجہ رَنج و تردُّد پیدا ہوتا ہی٭نیک فالی انسان کو کامیابی، حرکت اور ترقی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ بَدشگونی سے مایوسی ، سُستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے جوتَنَزُّلی کی طرف لے جاتی ہے۔