ان کا آنا فالِ حَسَن تھا
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناپنے دوسرے سفرِ مدینہ کے اَحوال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :اب یہا ں کامران (ایک جگہ کا نام)میں نودن ہوچکے ۔ کل جہاز پر جانا ہے ۔ دفعۃً (یعنی اچانک)رات کو میرے سب ساتھیوں کو دردِ شِکَم (یعنی پیٹ کا درد) و اِسْہال (اِس ۔ہال،یعنی پیچش) عارض (یعنی لاحِق)ہوا ، میرے درد تو نہ تھا مگر پانچ بار اِجابت (یعنی رفع حاجت )کو مجھے جانا ہوا ، دن چڑھ گیا اور ڈاکٹر کے آنے کا وَقْت ہوا ، باہر تُرکی مرد اور اندر عورتوں کو تُرکیہ عورت روزانہ آکر دیکھاکرتے ۔ میرے بھائی ننھے میاں سلمہ(یعنی علامہ محمد رضا خان علیہ رحمۃ الحنان )کو اندیشہ ہوا اور عَزْم کرلیا کہ اپنی حا لتو ں کو ڈاکٹر سے کہہ دو ۔ مجھ سے دریافت کیا۔ میں نے کہا :اگر بیمار سمجھ کر رو ک لئے گئے اور حج کا وَقْت قریب ہے مَعَاذَ اللہ وَقْت پر نہ پہنچ سکے توکیسا خسارہ(یعنی نقصان) ہوگا۔ کہا: ’’اب ڈاکٹر اور ڈاکٹرنی آتے ہوں گے اگر انہیں اطلاع ہو ئی تو ہمارا نہ کہنااِخْفا (یعنی پوشیدگی) میں نہ ٹھہرے گا ؟‘‘ میں نے کہا : ’’ذرا ٹھہرو !میں اپنے حکیم سے کہہ لوں۔ ‘‘ مکان سے باہر جنگل میں آیا اور حدیث کی دعائیں پڑھیں اور سیِّدُنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اِسْتِمْداد (یعنی مدد طلب)کی کہ دفعۃً سامنے سے حضرت سید شاہ غلام جیلانی صاحب سجادہ نشین سرکار بانسہ شریف کہ اولاد اَمْجاد حضور سیِّدُنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تھے اور بمبئی سے ہمارا ان کا ساتھ ہوگیا تھا ، سامنے سے تشریف لائے۔