Brailvi Books

بدشگونی
117 - 127
قَوِی اور صاف ہوتی ہے لہٰذا انسان کی زبان پر جاری ہونے والے کلمے سے اِستدلال کرنا(فال لینا)ممکن ہے لیکن پرندوں  کے اُڑنے یا دَرِندوں  کی کسی حرکت سے کسی بات پر اِستدلال کرنا(یعنی اچھا یا براشگون لینا)ممکن نہیں  کیونکہ ان کی رُوحیں  کمزور ہوتی ہیں۔ (تفسیر کبیر،۵/۳۴۴)
اس میں  خیر اور شر کی کیابات ہے ؟
	حضرتِ سیِّدُنا عکرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں  : ایک دن ہم لوگ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس بیٹھے تھے ۔ ہمارے پاس سے ایک پرندہ چہچہاتا ہوا گزرا ۔ مجلس کے حاضرین میں  سے کسی نے کہا: خیر ہی ہوگی۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فورا ً اس کی اِصلاح فرمائی اور کہا :نہ خیر ہوگی نہ شر ہوگا۔( یعنی ایک پرندہ چہچہاتے ہوئے اڑ رہا ہے تو اس میں  خیر اور شر کی کیا بات ہے ؟)  (فیض القدیر،۵/۲۹۴،تحت الحدیث:۷۱۰۱)
 ناگواری کا اظہار کیا
	 امام طاؤس رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  ایک شخص کے ہمراہ سفرمیں  تھے ،اس نے کوے کی آواز سنی تو کہا:خیر ہوگی ۔یہ سنتے ہی آپ نے ناگواری سے فرمایا: ا یُّ خَیرٍ عِنْدَ ھٰذَا اَوْ شَرٍّ، لَاتَصحَبنِی اس میں  خیریا شر کی کونسی بات ہے ! میرے ساتھ مت جاؤ ۔
(مصنف عبدالرازق،کتاب الجامع،باب الطیرۃایضاً،۱۰/۲۴،رقم:۱۹۶۸۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد