Brailvi Books

بدشگونی
116 - 127
اچھے نام والے سے کام لیا
	 سیِّدِ عالَم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک دن ایک اُونٹنی منگوائی اور فرمایا: اسے کون دَوہے (یعنی دودھ نکالے)گا؟ایک شخص نے عرض کی: میں۔ دریافت فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: مُرَّۃٌٌ(یعنی کڑوا)۔ فرمایا:تم بیٹھ جاؤ۔ ایک اور شخص کھڑا ہوا۔ نام پوچھا تو اس نے اپنا نام جَمْرَۃٌ (یعنی انگارہ) بتایا۔ اسے بھی بیٹھنے کا اِرشادفرمایا۔ اب حضرت سیِّدُنا یعیش غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے اور دریافت کرنے پر اپنا نام یَعِیْش (یعنی زندگی گزارنے والا) بتایا تو اِرشادہوا: تم اونٹنی کو دَوہو(یعنی اس کا دودھ نکالو)۔ (المعجم الکبیر،۲۲/۲۷۷،حدیث : ۷۱۰)
پرندوں  اور جانوروں  سے نیک فال نہیں  لے سکتے 
	نیک فال صِرْف کسی اچھی بات ، نیک شخص کی زیارت یا بابَرَکت ایام مثلاً ایامِ عید، پیر شریف وغیرہ سے لے سکتے ہیں پرندے اور جانوروں  سے جس طرح بُرا شگون لینا منع ہے اسی طرح نیک فال لینے کی بھی اِجازت نہیں  ہے ۔تفسیر کبیر میں  ہے : اہلِ عرب کے نزدیک فال اور بَدشگونی کا معاملہ ایک تھا ،سیِّدِ عالم،نورِ مجسمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فال کو برقرار رکھا اور بَدشگونی کو باطِل قرار دیا۔امام محمد رازی علیہ رحمۃُ اللہِ الہادیفرماتے ہیں :فال اور بَدشگونی میں  فرق کا بیان ضَروری ہے،اس سلسلے میں  بہتر بات یہ ہے کہ انسانی رُوح درندوں  اور پرندوں  کی رُوحوں  سے زیادہ