تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نیک فال کو پسند کرتے تھے ۔(اِرشادالساری،کتاب الشروط،باب الشروط فی الجھاد، ۶/۲۲۹)علامہ ابنِ جوزی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی اس فرمانِ رسول کے تحت لکھتے ہیں : یہ فرمانِ عالیشان اچھے نام سے اچھا شگون لینے کے مُسْتَحَب ہونے پر دلیل ہے۔(کشف المشکل عن حدیث الصحیحین، ۱/۱۰۷۰ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اچھا شگون لیا
رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بَدشگونی نہیں لیتے تھے لیکن آپ (نیک ) فال لیتے،حضرتِ سیِّدُنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قبیلہ بنو سہم کے 70 سوارں کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوئے تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے دریافت فرمایا: تم کون ہو ؟انہوں نے کہا: بُرَیْدَۃ ، تب رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف مُڑ کر فرمایا:بَرَدَ اَ مْرُنَاوَ صَلَحَ ، ہمارا معاملہ ٹھنڈا اور اچھا ہوگیا، پھر فرمایا: تم کن لوگوں سے ہو؟ انہوں نے کہا : اَسْلَمْ سے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہسے فرمایا: سَلِمْنَا، ہم سلامتی سے رہیں گے، پھر فرمایا تم کس قبیلہ سے ہو ؟ انہوں نے کہا بَنُوْ سَہْم سے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: خَرَجَ سَھْمُکَ (اے ابوبکر)تمہاراحصہ نکل آ یا۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،۱/۲۶۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد