Brailvi Books

بدشگونی
114 - 127
وسلَّم) کو پسند تھی کہ یَا رَاشِد (اے ہدایت یافتہ)، یَا نَجِیْح(اے کامیاب)سنیں۔
 (ترمذی،کتاب السیر، باب ماجاء فی الطیرۃ،۳/۲۲۸،حدیث:۱۶۲۲)
	 صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القویاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : یعنی اس وَقْت اگر کوئی شخص ان ناموں  کے ساتھ کسی کو پُکارتا یہ حضور  (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)  کو اچھا معلوم ہوتا کہ یہ کامیابی اور فلاح کی فال نیک ہے۔  (بہار شریعت،۳/۵۰۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اب تمہارا کام آسان ہوگیا ہے 
	 صلح حُدَیبیہ ۱؎کے موقع پرجب مشرکین نے مسلمانوں  سے صلح کرنے کے لیے سہیل بن عَمْرْو(جو اس وَقْت تک ایمان نہیں  لائے تھے) کو بھیجا ، ان کو دیکھ کرآپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے(نیک فال لیتے ہوئے )صحابہ سے فرمایا:قَدْ سَہُلَ لَکُمْ مِنْ اَمْرِکُمْاب تمہارا کام آسان ہوگیا۔ (بخاری،کتاب الشروط،باب الشروط فی الجہاد،۲/۲۲۶،حدیث:۲۷۳۱،۲۷۳۲ملخصاً)
	شارحِ بخاری حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن محمدقسطلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الغَنِی اپنی کتاب اِرشادُالسّاری میں  لکھتے ہیں  :یعنی یہ نیک فال تھی اور نبی پاک صلَّی اللہ
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ ؎  :صلح حدیبیہ کا تفصیلی احوال پڑھنے کے لئے سیرتِ مصطفیٰ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) صفحہ346 تا364 کامطالعہ کیجئے ۔