Brailvi Books

بدشگونی
113 - 127
اچّھی نیّت کا پھل پاؤ گے بے بدل   سب کرو  نیّتیں  قافِلے  میں چلو
دُور     بیماریاں   اور    ناداریاں  ہوں ٹلیں مشکلیں قافلے میں چلو 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!  صلَّی اللہُ تعالیٰ علٰی محمَّد
نیک فال یا اچھا شگون لینا 
	نیک فال یا اچھاشگون لینا بَدشگونی کی ضِد ہے یعنی کسی چیز کو اپنے لئے باعث خیر وبَرَکت سمجھنا اور یہ مُسْتَحَبہے،مثلاً بزرگانِ دین کی زِیارت ہونا،بُدھ کے دن نیا سبق شروع کرنا، پیراور جمعرات کوسفر شروع کرنا ۔ہمارے مکی مَدَنی آقا  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نیک فال لینا پسند تھا چنانچہ اِرشادفرمایا:بَدفالی کوئی چیز نہیں  اور فال اچھی چیز ہے۔ لوگوں  نے عرض کی: فال کیا چیز ہے؟ فرمایا: ’’اچھا کلمہ جو کسی سے سنے۔‘‘ (بخاری،کتاب الطب، باب الطیرۃ،۴/۳۶،حدیث:۵۷۵۴)
صَدرُ الشَّرِیعہ بدرُالطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: کہیں جاتے وقت یا کسی کام کا ارادہ کرتے وقت کسی کی زبان سے اگر اچھا کلمہ نکل گیا، یہ فال حسن ہے۔(بہار، شریعت، ۳/۵۰۳)
مِراٰۃُ المناجیح میں اس حدیث کے تحت ہے: غالبًا یہاں ’’ طِیْرَہ‘‘ سے مراد بدفالی لینا ہے خواہ پرندے سے ہو یا چرندہ جانور سے یا کسی اور چیز سے کیونکہ بدفالی مطلقًا ممنوع ہے۔قرآن مجید میں  تَطَیُّر اور طائِر بمعنی بدفالی آیا ہے،رب فرماتاہے:(ترجمۂ کنزالایمان:بولے ہم تمہیں  منحوس سمجھتے ہیں۔ (پ۲۲،یٰس:۱۸)) اور فرماتا ہے:(ترجمۂ کنزالایمان:انہوں  نے فرمایا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے(پ۲۲،یٰس:۱۹))۔مقصد یہ ہے کہ اسلام میں  بدفالی کوئی شی نہیں  کسی چیز سے بدفالی نہ لو۔ (’’اچھا کلمہ جو کسی سے سُنے‘‘ کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں  :)جیسے کوئی شخص کسی کام کو جارہا ہے کسی سے آواز آئی’’ اے نَجِیح (یعنی اے کامیاب ہونے والے)یا اے برکت یا اے رَشید (یعنی اے ہدایت یافتہ)‘‘یہ جانے والا یہ الفاظ سن کر کامیابی کا امیدوار ہوگیا یہ بالکل جائز ہے۔ بعض دکاندار صبح کو’’ یارَزَّاق،گمشدہ کے متلاشی یا وَاجِد(یعنی اے پانے والے)‘‘،مسافر لوگ’’یا سالِم(یعنی اے سلامتی والے)،حاجی و غازی لوگ’’ یا مَنصُور(یعنی اے مددیافتہ) یا مَبرور‘‘ اور زائر لوگ ’’یا مقبول(یعنی اے قبول ہونے والے)‘‘ سن کر خوش ہو جاتے ہیں  ،یہ سب اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔(مراٰۃ المناجیح ۶/۲۵۵)	
اچھا معلوم ہوتا
	حضرت ِ سیِّدُنااَنس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمجب کسی کام کے لیے نکلتے تو یہ بات حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ