Brailvi Books

بدشگونی
112 - 127
گزار کرتا ہوں ،چنانچہ 
نشے کی عادتِ بَد چھوٹ گئی 
	 عطّار آباد(جیکب آباد،باب الاسلام سندھ) کے علاقے ٹُھل سے تعلق رکھنے والے اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں  ہے : پہلے میں  غَلَط عقائد کا حامِل اور اخلاقی برائیوں  کی دلدل میں  دھنسا ہوا تھا ،روزانہ رات کو 8 سے 12 بجے تک بھنگ،چرس اور شراب وغیرہ کا نشہ کیا کرتا پھر بَدمست ہوکر گھر پہنچتا اور بستر پر بے سُدھ ہوکر سورہتا۔ میری ماں  میری حالت دیکھ کر روتی رہتی اور مجھے سمجھاتی لیکن مجھ پر ذرا بھی اثر نہ ہوتا۔ پھرغالباً 2010 ؁ء میں  ہمارے علاقے میں  سیلاب آیا تو ہم نے ایک محفوظ مقام پر پناہ لی ۔ وہاں  میں  شدید بیمار ہوگیا حتی کہ مجھے خون کی اُلٹیاں  آنے لگیں  ۔ میری خوش نصیبی کہ اسی دوران میری ملاقات ایک دعوتِ اسلامی والے سے ہوگئی جس نے مجھ پر انفرادی کوشش کی اور میں  نے اپنی زندگی میں  پہلی بار مَدَنی قافلے میں  سکھر کی طرف سفر کیا ۔مجھے بَدعقیدگی اور نشے کی عادتِ بَد سے توبہ کی توفیق ملی ،پھر راہیں  کھلتی چلی گئیں۔مدنی کام کرتے کرتے مجھے حصولِ علمِ دین کا ایسا شوق ہوا کہ میں  نے لاڑکانہ فاروق نگر میں  جامعۃ المدینہ میں  داخلہ لے لیا،کچھ عرصے بعد باب المدینہ کراچی منتقل ہوگیا۔تادمِ بیان جامعۃُ المدینہ فیضانِ مشتاق باب المدینہ (کراچی)میں  درجہ ثانیہ کا طالب العِلْم ہوں  ۔