ہاتھوں ہاتھ سزا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم پر آنے والی مصیبت ہمارے گناہوں کی سزا ہوتی ہے ، چُنانچِہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : اِذَا اَرَادَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجَّلَ لَہٗ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّجب کسی بندے سے بھلائی کا اِرادہ کرتا ہے تو اُس کے گناہ کی سزافوری طور پراُسے (دنیاہی میں ) دے دیتا ہے ۔ (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل، ۵/۶۳۰،حدیث : ۱۶۸۰۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) مختلف وظائف کا معمول بنا لیجئے
اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضاخانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰنلکھتے ہیں : اس قسم (یعنی بَدشگونی وغیرہ)کے خطرے وَسْوَسے جب کبھی پیدا ہوں اُن کے واسطے قرآن کریم و حدیث شریف سے چند مختصر و بیشمار نافِع(فائدہ دینے والی) دعائیں لکھتا ہوں انہیں ایک ایک بار خواہ زائد(یعنی ایک سے زیادہ مرتبہ) آپ اور آپ کے گھر میں پڑھ لیں۔ اگر دل پُختہ ہوجائے اور وہ وہم جاتا رہے بہتر ورنہ جب وہ وَسْوَسہ پیدا ہو ایک ایک دفعہ پڑھ لیجئے اور یقین کیجئے کہ اللہ ورسول(عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے وعدے سچے ہیں اور شیطان مَلْعُون کا ڈرانا جُھوٹا۔ چند بار میں بِعَوْنِہِ تَعَالٰی(یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد سے) وہ وہم بالکل زائل (یعنی ختم)ہوجائے گا اور اصلاً کبھی کسی طرح اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ وہ دعائیں یہ