گناہوں کے سبب بھی مصیبت آتی ہے
مصیبت آنے پر دل کو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرانے،صَبْر پر استِقامت پانے اور غَلَط قدم اٹھانے سے خود کو بچانے کیلئے توبہ و اِستِغفار کرتے ہوئے یہ ذِہْن بھی بنایئے کہ ہم پر جو مُصیبت نازِل ہوئی ہے اُس کا سبب ہمارے اپنے ہی کرتُوت ہیں نہ کہ کسی کی نُحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ،پارہ 25 سورۃُ الشُّوریٰ کی 31 ویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ ربّانی ہے: وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ وَ یَعْفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾ (پ ۲۵،الشوریٰ ۳۰)
ترجَمَۂ کنزُالایمان: اورتمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بَہُت کچھ تو مُعاف فرما دیتا ہے۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :’یہ خطابمُؤمِنِین مُکَلَّفِینسے ہے جن سے گناہ سَرزد ہوتے ہیں ، مراد یہ کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مؤمِنِین کو پہنچتی ہیں اکثر ان کا سبب ان کے گنا ہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے گناھوں کا کَفّارہ کر دیتا ہے اور کبھی مومِن کی تکلیف اُس کے رَفعِ دَرَجات ( یعنی بلندیٔ دَرَجات) کیلئے ہوتی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد