الْکَرِیْم فتح کے ساتھ خوشی خوشی واپس تشریف لائے ۔ (غذاء الألباب فی شرح منظومۃ الآداب،۱/۱۹۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بَدشگونی پر عمل نہ کرو
اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن لکھتے ہیں : شریعت میں حکم ہے: اِذَا تَطَیَّرْتُمْ فَامْضُوْایعنی جب کوئی شگونِ بَدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔(فتح الباری،کتاب الطب،باب الطیرۃ،۱۱/۱۸۱)(فتاویٰ رضویہ،۲۹/۶۴۱ملخصاً)
کام نہ کرنے کا بھی اختیار ہے
کسی چیز کا منحوس ہونا مشہور ہوتو اس کام کو نہ کرنے کا بھی اختیار ہے لیکن بَدشگونی پر اِعتقاد ہرگز نہ رکھا جائے ، اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰنلکھتے ہیں :جسے عام لوگ نَحْس(یعنی منحوس) سمجھ رہے ہیں اس سے بچنا مناسب ہے کہ اگر حسبِ تقدیر اسے کوئی آفت پہنچے ان کا باطِل عقیدہ اور مستحکم ہوگا کہ دیکھو یہ کام کیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا اور ممکن کہ شیطان اس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے۔(فتاویٰ رضویہ ،۲۳/۲۶۷)