صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القویلکھتے ہیں :یعنی کہیں جارہا تھا اور بُراشگون ہوا تو واپس نہ آئے، چلا جائے۔(بہارِ شریعت،۳/۵۰۴)
سفر سے نہ رُکے
منقول ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کُشاحضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے جب خارجیوں سے جنگ کیلئے سفر کا اِرادہ کیا تو ایک مُنَجِّمْ(یعنی ستاروں کا عِلْم رکھنے والا ایک شخص،نُجومی) رُکاوٹ بنااور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین( رضی اللہ تعالٰی عنہ)! آپ تشریف نہ لے جائیے ، حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے وجہ پوچھی تو اس نے کہا:اس وَقْت چاند عَقْرَبْ(آسمان کے برجوں میں سے ایک بُرج کا نام ) میں ہے اگر آپ اس وَقْت تشریف لے گئے تو آپ کو شکست ہو جائے گی۔یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے جواب دیا: نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صدیق وعمر رضی اللہ تعالٰی عنھما نُجومیوں پر اِعتقاد نہیں رکھتے تھے ،میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکُّل کرتے ہوئے اور تمہاری بات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ضَرورسفر کروں گا۔پھرآپ رضی اللہ تعالٰی عنہاس سفرِجہاد پر تشریف لے گئے ، اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہکو رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ ظاہِری کے بعد سب سے زیادہ بَرَکت اس سفر میں عطا فرمائی حتی کہ تمام دشمن مارے گئے اور حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ