Brailvi Books

بدشگونی
105 - 127
(۳) کام سے نہ رکئے
	نور کے پیکر، تمام نبیوں  کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:میری اُمّت میں  تین چیزیں  لازِماً رہیں  گی : بَدفالی،حَسَد اور بَدگُمانی۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! جس شخص میں  یہ تین خصلتیں  ہوں  وہ ان کا کس طرح تدارُک کرے ؟اِرشادفرمایا:جب تم حَسَد کرو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِسْتِغْفار کرو اور جب تم کوئی بَدگُمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب تم بَدفالی نکالو تو اس کام کو کر لو ۔ (المعجم الکبیر،۳/۲۲۸،حدیث : ۳۲۲۷)
بَدشگونی باطنی بیماری ہے 
	علّامہ محمد عبدالر ؤوف مناوی علیہ رحمۃُ اللہِ الہادی فیض القدیر میں  لکھتے ہیں  : اس حدیث میں  اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تینوں  خصلتیں  اَمراضِ قلب میں  سے ہیں  جن کا عِلاج ضَروری ہے جو کہ حدیث میں  بیان کردیا گیا ہے ۔(فیض القدیر،۳/۴۰۱ ،حدیث : ۳۴۶۵)
بُرا شگون تمہیں  واپس نہ کرے 
	حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہکہتے ہیں  کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے بَدشگونی کا ذِکْرہوا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا: فال اچھی چیز ہے اور براشگون کسی مسلم کو واپس نہ کرے۔  
(ابو داوٗد،کتاب الطب،باب فی الطیرۃ،۴/۲۵،حدیث:۳۹۱۹)