(۲) توکُّل بہترین علاج ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ پر اِعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کر دینا توکُّل کہلاتا ہے لہٰذاجب بھی کوئی بَدشگونی دل میں کھٹکے تو رب تعالیٰ پر توکُّل کیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بَدشگونی کا خیال دل سے جاتا رہے گا ۔ رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّمنے اِرشادفرمایا :بَد فالی لینا شِرْک ہے، بَدفالی لینا شِرْک ہے، یہ بات تین بار اِرشادفرمائی(پھر فرمایا)اور ہر شخص کے دل میں اس کاخیال بھی آتا ہے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ توکّل کے ذریعے اسے دُورفرما دیتا ہے۔
( ابو داؤد ،کتاب الطب،باب فی الطیرۃ،۴/۲۳، حدیث:۳۹۱۰ )
حافظ ابو القاسم اَصفہانیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الغَنِی اِرشادفرماتے ہیں :اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ ہے کہ میری اُمّت کے ہر شخص کے دل میں ان میں سے کچھ نہ کچھ خیال آتا ہے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر اس شخص کے دل سے یہ خیال نکال دیتا ہے جواللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکُّل کرتا ہے اور اس بَد فالی پر قائم نہیں رہتا۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر،باب السفر،۱/۳۲۵)
شارحِ بخاری علامہ اسماعیل بن محمدعَجلونی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی علامہ مَناویعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جس کا یہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِذن کے بغیر کوئی چیز کسی چیز میں اثر نہیں کرتی ، اس پر کسی بَد شگونی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔( کشف الخفاء ، ۱/۱۱)