جواللہ نے تمہارے لیے لکھ دی اور اگر اس پر متفق ہو جائیں کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچادیں تو ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اس چیز سے جو اللہ نے لکھی ۔(ترمذی ،کتاب صفۃ القیامۃ،۴/۲۳۱،حدیث:۲۵۲۴،ملتقطاً)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے اِس حدیثِ پاک کے تحت جو وضاحت فرمائی ہے ،اس سے حاصل ہونے والے مَدَنی پھول پیشِ خدمت ہیں :٭ یعنی ساری دنیا مل کر تم کو نفع نہیں پہنچاسکتی اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچاسکتی ہے۔ طبیب کی دوا شفا دے سکتی ہے، سانپ کا زہر جان لے سکتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا طے شدہ اس کی طرف سے(ہے)، حضرت یوسف(علیہ الصلٰوۃ والسلام )کی قمیص نے دیدۂ یعقوبی (یعنی حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کی آنکھوں )کو شفا بخشی ،حضرت عیسی(علیہ الصلٰوۃ والسلام) مُردے زندہ ،بیمار اچھے کرتے تھے مگر اللہ کے اِذن (یعنی اِجازت)سے ۔٭ لکھنے سے مراد لوحِ محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہاللہ کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ اللہ نے لکھا مطلب ظاہِر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے توو ہ بھی طے شدہ پروگرام کے تحت ہوگا کہ لوحِ محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا ٭خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں آچکی ہے لہٰذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اِعتماد نہ کرو نظراللہ کی قدرت و رحمت پر رکھو۔(مراٰۃ المناجیح،۷/۱۱۷)