Brailvi Books

بدشگونی
102 - 127
	امام فخر الدین رازی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں : اس آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے کہ ہمیں  کوئی خیر وشر،خوف اور امید،شدت و سختی نہیں  پہنچے گی مگر وہی کہ جو ہمارا مقدر ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس لوح محفوظ پر لکھی ہوئی ہے۔  (التفسیر الکبیر، ۶/۶۶)
رِزْق اور مصیبتوں  کو لکھ دیا گیا ہے 
 	 حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  مَرْوی ہے کہ سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشادفرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر ایک جان کو پیدا فرمایا ہے اور اس کی زندگی،رِزْق اور مصیبتوں  کو لکھ دیا ہے۔
 (ترمذی،کتاب القدر،باب ماجاء لا عدوی و لا ھامۃ ولا صفر،۴/۵۷،حدیث : ۲۱۵۰ ملتقطاً ) 
	لہٰذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اس بات پر یقینِ کامل ہونا چاہئے کہ رنج ہویا خوشی!آرام ہویا تکلیف! اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اورجو مشکلات ، مصیبتیں  ،تنگیاں  اوربیماریاں  ہمارے نصیب میں  نہیں  لکھیں  گئیں وہ ہمیں  نہیں  پہنچ  سکتیں۔
نقصان نہیں  پہنچا سکتے 
	سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے فرمایا: یقین رکھو کہ اگرپوری اُمّت اس پر متفق ہوجائے کہ تم کو نفع پہنچائے تو وہ تم کو کچھ نفع نہیں  پہنچاسکتی مگر اس چیز کا