گا کہ یہ میری تقدیر میں لکھا تھا نہ کہ کسی چیزکی نُحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ پارہ27سورۃ الحدید کی آیت 22میں اِرشادہوتا ہے : مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ نَّبْرَاَہَا ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرٌ ﴿۲۲﴾ۚۖ (پ۲۷،الحدید:۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان:نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں ، بیشک یہ اللہ کو آسان ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنا ذہن بنا لیجئے کہ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے،کالی بلی کے راستہ کاٹنے یا گھر کی چھت پر اُلّو کے بولنے سے ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچے گا،کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے سے کالی بلی نہیں گزرتی پھر بھی انہیں کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے لہٰذا کالی بلی میں کوئی نُحوست نہیں ہے۔سورہ توبہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ مسلمانوں سے اِرشادفرماتا ہے کہ یوں کہا کریں : لَنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوۡنَ ﴿۵۱﴾ (پ۱۰، التوبہ:۵۱)
ترجمہ کنز الایمان :ہمیں ہر گز نہ پہنچے گی مگر وہ بات جواللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دی،وہ ہمارا مولی ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔