دیا۔
مجھے یہاں کا ماحول اچھا لگا، اسکول کی طرح یہاں بھی اساتذہ اور دوست ملے مگر اُن سے مختلف، کیونکہ اِن کا طرزِ زندگی مصطفٰے جانِ رحمت صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی سنّتوں کا آئینہ دار تھا۔ وہ محبت، اُخُوّت، ہمدردی اور رواداری جیسی عظیم اسلامی صفاتِ حَسَنہ سے مُتَّصِف تھے۔ چنانچہ یہی مدَنی ماحول میرے اندر تبدیلی کا عُنصُر بنا اور یوں میں اپنے قلب کو علمِ دین کے نور سے منوّر کرنے لگا اور اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے لگا۔ تادمِ تحریر اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ علمِ دین کے مدَنی پھول سمیٹتے ہوئے دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے نیز ذیلی حلقہ کی مشاورت میں مدَنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں میں ترقی و عروج کے لئے کوشاں ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا ہے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں اِستِقامت عطا فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{9}عطائے اِلٰہی
چَک نمبر 39s/p (پاکپتن شریف) کے مکین اسلامی بھائی کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ 2004 ء کی بات ہے کہ جب مقامی مدرسے میں میرا حفظِ قرآن مکمل ہوا تو عطائے الٰہی سے میرے اندر عالمِ دین بننے کا شوق بیدار ہوا۔ گھر والوں کی بھی یہی خواہش تھی لہٰذا اس سلسلے میں مختلف علمی مراکزکی معلومات