Brailvi Books

بَداَطوار شخص عالِم کیسے بنا؟
26 - 32
اِصلاح کا سامان کرنے لگ گیا۔ 
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!			صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{8}دل بدل گیا
	خانیوال (پنجاب، پاکستان) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کی مدَنی بہار کا خلاصہ ہے کہ جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ  میں داخلہ لینے سے قبل میں اسکول میں پڑھتا تھا۔ میری حالت نا گُفتہ بہ تھی، میں انتہائی شرارتی قسم کا لڑکا تھا۔ اسکول سے آنے کے بعد سارا دن کھیل کود میں گزارتا اور دوستوں کے ساتھ موج مستی میں مگن رہتاتھا۔ کسی کا کہا ماننا تو مجھے آتا ہی نہ تھا۔ کیا اساتذہ، کیا والدین سبھی مجھ سے تنگ تھے۔  اپنے کرتوتوں کے سبب کئی مرتبہ والد صاحب سے مار بھی کھا چکا تھا مگر ’’نہ سُدھرے ہیں نہ سُدھریں گے قسم کھائی ہے‘‘ کے مصداق میں پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا۔ جب میں نے میٹرک کر لیا تو میرے ماموں جان جو دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابستہ تھے انہوں نے والد صاحب کا ذہن بنایا کہ وہ مجھے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخل کروا دیں۔ میری دن بدن بڑھتی شرارتوں کے پیشِ نظر والد صاحب نے ان کے مدَنی مشورے کا خیر مقدم کیا اور مجھے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ اِشَاعَتُ الْاِسْلاَم، خانیوال روڈ، مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں داخل کروا