Brailvi Books

بَداَطوار شخص عالِم کیسے بنا؟
25 - 32
 مجھے ہتھیار ڈالنے پڑ گئے۔ میں نے یہ سوچ کر اپنے آپ کو منا لیا کہ چلو کچھ دن جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں جاکر دعوتِ اسلامی کا یہ مدَنی ماحول بھی دیکھ ہی لیتے ہیں۔ چنانچہ جَامِعَۃُ الْمَدِ یْنَہ  میانوالی میں میرا داخلہ ہو گیا اور وہاں میری دینی تعلیم کا آغاز ہو گیا۔ شروع میں مَیں بدْ دِل تھا مگر طلبہ اور اساتذۂ کرام کی جانب سے ملنے والے پیار، محبت اور شفقت نے میری سوچ کو مُثبَت پہلو کی جانب مائل کر دیا اور میری اَجْنَبِیَّتْ کو اُنْسِیَّتْ میں تبدیل کر دیا۔ یوں میں پڑھائی کی طرف توجّہ دینے لگا۔ پھر جب میں نے دینی مسائل کے ساتھ ساتھ عربی گرامر سیکھی تو بے انتہا خوشی ہوئی کیونکہ اس کے ذریعے مجھ میں قراٰن و حدیث سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہونے لگی تھی۔ اس کے علاوہ وضو، غسل، طہارت اور نماز، روزہ  کے اَہم مسائل سے آگاہی ہوئی تو پتہ چلا کہ میں کیسی جہالت کا شکار تھا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کا پاکیزہ ماحول مجھے ایسا بھایا کہ میں اسی کا ہوکر رہ گیا۔ میری نفرت مَوَدَّت میں بدل گئی اور میرے دل پر جمی شیطانیت کافور ہو گئی۔ پھر مزید شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیانات اور مدَنی مذاکرات سننے کی سعادت نصیب ہوئی تو میرے دل میں بھی خدمتِ دین کا مقدّس جذبہ بیدار ہو گیا یوں میں مدنی قافلوں میں سفر کرنے والا اور نیکی کی دعوت دینے والا بن گیا۔ اپنی اِصلاح کی کوشش کے ساتھ ساتھ گھر والوں ، دوست اَحباب اوررشتہ داروں کی