اجتماع کی دعوت دینے کے لیے تشریف لاتے تو میں دوستوں کے ساتھ مل کر ان کا مذاق اُڑاتا، ان پر طرح طرح کی پھَبتِیاں کَستا اور یوں مَعَاذَ اللہ اپنے اس خیر خواہ اسلامی بھائی کی دل آزاری کر کے حرام کا مرتکب ہوتا تھا۔ مگر نہ جانتا تھا کہ ایک دن میں بھی اسی مدَنی رنگ میں رنگ کر سنّتوں کا داعی بن جاؤں گا۔ چنانچہ میری زندگی میں مدَنی انقلاب کچھ اس طرح آیا کہ ایک روز ایک مبلِّغِ دعوتِ اسلامی کی بڑے بھائی جان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھائی جان کو جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ کی اہمیّت و اِفادیت سے روشناس کراتے ہوئے مجھے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخل کروانے کا مدَنی ذہن دیا۔ بھائی جان کو ان کی تجویز پسند آگئی لہٰذا انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے میرا عالم کورس کرنے کا ذہن بنایا اور گھر والوں کو بھی مجھے عالم دین بنانے کی ترغیب دلائی۔ یوں بھائی جان کے ساتھ ساتھ گھر والوں کی بھی مجھے عالمِ دین بنانے کی خواہش پیدا ہو گئی اور ان سب کا اصرار شروع ہو گیا۔ چونکہ میں دعوتِ اسلامی والوں سے کتراتا اور ان سے دور بھاگتا تھا اور جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخلے کی صورت میں کھیل کود چھوٹنے اور دوستوں سے ناتا ٹوٹنے کا بھی مجھے خوف لاحق تھا لہٰذا میں اِس پر آمادہ نہ ہوا اور ٹالم ٹول سے کام لینے لگا۔ مگر چونکہ بھائی جان اور گھر والے جو مجھے عالمِ باعمل، سنتوں کا پیکر بنانے کا خواب دیکھ چکے تھے ان کے آگے میری یہ پہلو تہی دیرپا ثابت نہ ہوئی اور بالآخر