Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
62 - 67
1.	ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو رقم بنتی ہے وہ اس کے پاس نہ ہو۔مثلاً 03 شعبانُ المعظم 1434ھ مطابق 13جون2013 ء کو چاندی کی قیمت فی تولہ 860روپے کے اعتبار سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم45150روپے بنتی ہے لہٰذا اتنی رقم بھی اس کے پاس نہ ہو۔
2.	ساڑھے باون تولہ چاندی کی مذکورہ قیمت کے برابر اس کے پاس کسی قسم کا مالِ نامی مثلاً مالِ تجارت ،پرائز بانڈز وغیرہ نہ ہوں۔ 
3.	اتنی ہی قیمت کے برابر اس کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد اشیاء مثلاً اضافی فرنیچر، گھریلو ڈیکوریشن کا سامان نہ ہو۔
4.	سونا یا چاندی اگر اوپر بیان کردہ مقدار سے کم ہے لیکن سونے یا چاندی کے ساتھ ساتھ دیگر وہ چیزیں بھی اس کے پاس ہیں کہ مالک نصاب ہونے میں جن کا شمار کیا جاتا ہے تو اب سب کی قیمت ملاکر دیکھیں گے اگر تمام کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مذکورہ قیمت کے برابر آتی ہے تو ایساشخص بھی زکوٰۃ کا مستحق نہیں۔ مثلاً ایک شخص کے پاس 10ہزار روپے کے پرائز بانڈز ،5ہزار روپے کیش اور ایک تولہ سونا تھا جس کی قیمت فی زمانہ تقریباًباون ہزار سات سو روپے بنتی ہے جب ان تمام کو ملایاگیا تو کُل67,700 روپے ہوئے اور اتنی مالیت کا حامل شخص زکوٰۃ کا مستحق نہیں لہٰذا ایسے کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔