میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مستقل بنیادوں پر اور وہ بھی اتنے بڑے پیمانے پر اخراجات یقیناً زکوۃ و صدقات کے مدنی عطیات ہی کے ذریعےممکن ہے لہٰذا آپ بھی اپنی زکوۃ ،فطرہ،صدقات و غیرہ سے مُتَعَلّق تمام مدنی عطیات دعوتِ اسلامی کو دے کر سرمایہ آخرت اکٹھا کیجئے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اسلاف کے اندازِ تجارت کے مطابق سچائی ،دیانتداری اور مُسلمانوں کی خیر خواہی کا خیال رکھتے ہوئےتجارت و ملازمت اور کاروبار کرنے نیز خوشدلی سے زکوۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
زکوٰۃ کون لے سکتا ہے؟
شریعتِ مُطَہَّرَہ نے زکوٰۃ کا حقدار ہونے کے لیے ایک مالی معیار مقرر کیا ہے جس میں حکمت یہ ہے کہ ان لوگوں کی اعانت ہو سکے جو انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مستحقِ زکوٰۃ (شرعی فقیر)کے لئے ضروری ہے کہ وہ درج ذیل شرائط پر پورا اترتاہوجبکہ وہ ہاشمی یا سیِّدنہ ہو۔قرض اور حاجت اصلیہ میں مشغول تمام اموال کو نکال کر درج ذیل باتیں اس میں پائی جاتی ہوں۔
1. اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونانہ ہو ۔
2. ساڑھے باون تولہ چاندی اس کی ملکیت میں نہ ہو ۔