Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
54 - 67
 صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو سات دن گزرے تھے کہ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:”حضور! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی، میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں کہا ں رکھوں ۔“(1)
﴿3﴾حضرت سَیِّدُنا سَہَلْ بن سَعَد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ اَقْدَس شفیعِ روز ِمَحْشَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضر ہوکر اپنی مفلسی کی شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، جب تم گھر میں داخل ہوتوگھر والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی نہ ہوتو مجھ پر سلام عرض کرو اور ایک بار قُلْ ھُوَاﷲشریف پڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا پھر اﷲتعالیٰ نے اس کو اتنا مالا مال کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کی بھی خدمت کی۔(2)
اسلام میں نظریۂ زکوٰۃ 
معاشی ترقی اور رزق میں برکت کا ایک بہترین طریقہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔یاد رکھئے!زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رُکن اور اہم ترین مالی عبادت ہے۔یہ ایسا خوبصورت نظام ہے جس کے ذریعے مُعاشرے کے نادار اور محتاج لوگوں کو مالی مدد ملتی ہے۔اگر سارے مالدار لوگ درست طریقے سے زکوٰۃ ادا کریں تو غربت و افلاس کا خاتمہ ہوجائے۔قرآن مجید، فرقانِ حمید میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص ۱۲۸
2… الجامع لاحکام القر آن،للقرطبی،۲۰/۲۳۱