نہ صرف وہ نیک اجتماعات میں شرکت کرنے لگے بلکہ ویڈیو سینٹر جیسامذموم کاروبار بھی چھوڑ دیا۔یقیناً اگر سارے مُسلمان کاروبار اور دیگر مُعاملات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی والے کام ترک کردیں اور اس کی یاد کو اپنےدل میں بسالیں تو کیا بعیدکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے رزق میں ایسی برکت عطا فرمادے کہ ان کے معاشی مسائل کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔آئیے احادیثِ مُبارکہ کی روشنی میں ترقیِ معیشت اور رزق میں برکت سے مُتَعَلِّق تین مدنی پھول مُلاحظہ کیجئے۔
رزق میں برکت کے روحانی علاج
﴿1﴾نبیوں کے تاجْوَر، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: جس نے استغفارکو اپنے اوپر لازم کرلیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے راحت عطافرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطافرمائیگا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔(1)
﴿2﴾ملفوظاتِ اعلیٰحضرت میں ہے:ایک صحابی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)خدمتِ اقدس (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)میں حاضر ہوئے اور عرض کی:دنیانے مجھ سے پیٹھ پھیرلی۔ فرمایا:کیا وہ تسبیح تمہیں یا دنہیں جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے ۔ خلقِ دنیا آئے گی تیرے پاس ذلیل وخوارہو کر، طلوعِ فجر کے ساتھ سوبار کہا کر ”سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سَبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْم وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ“(2) اُن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ابن ماجه ،کتا ب الادب ،باب الاستغفار ،۴/۲۵۷، حدیث: ۳۸۱۹
2… لسان المیزان،حرف العین،۴/۳۰۴ ،حدیث:۵۱۰۰