کے قبضۂ قدرت ميں محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم)کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پيٹ ميں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہيں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زيادہ بہترہے۔(1)
بیان کردہ روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مالِ حرام ہلاکت ہی ہلاکت ہےلہٰذا ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ دنیا وآخرت کی بربادی سے بچنےکے لئے سود اور مالِ حرام سے کنارہ کشی اختیار کرلے خواہ اس کے بدلے اسے کتنا ہی بڑا دنیوی خسارہ کیوں نہ اُٹھانا پڑے۔مگر افسوس!فی زمانہ جبکہ معاشرے میں رشوت ، سُود، دھوکا اور بد دیانتی وغیرہ عام ہوچکی ہے اوپر سے نیچے تک تقریباً سارا نظام تہس نہس ہوچکا ہے، اگردین کا درد رکھنے والا کوئی اسلامی بھائی سمجھانے کی کوشش بھی کرے تو اس قسم کی باتیں سُننے کو ملتی ہیں:’’بھئی کیا کریں مجبوری ہے،ہم تو بے بس ہیں ،اس کے بغیر چارہ ہی نہیں،سب چلتا ہے،ہم اکیلے کر بھی کیا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ‘‘ حالانکہ یہ باتیں درست نہیں،کیونکہ نہ تو ہم بے بس و مجبور ہیں اور نہ ایساہے کہ ان حرام کاریوں کے بغیر چارہ نہیں اور جہاں تک اس بات کا تعلّق ہےکہ ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں تو جناب کم از کم اپنی ہی اصلاح کی کوشش کرلیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ پورا نظام خود بخود ٹھیک ہوجائےگا۔دراصل ہم چاہتے ہیں کہ دوا بھی نہ کھائیں اور مرض سے شفا بھی مل جائے ،مانا کہ معاشی خوشحالی کے لئے پورے مُعاشرے کو سُود اور دیگر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… معجم الاوسط ،۵/۳۴، حدیث: ۶۴۹۵