Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
49 - 67
یعنی اگر وہ لقمہ حرام کا ہوگا تو حرام کاموں کا سبب بنے گا،مکروہ ہوگا تو مکروہ  اور اگر مباح ہوگا تو مباح کاموں کا سبب بنے گااور اسی طرح اگر کھانابابرکت ہوگا تو اچھے کاموں کاسبب بنےگا اور بندے کےافعال میں برکت اور زیادتی کا باعث ہوگا۔(1) 
لقمۂ حرام قبولیتِ دُعا میں رکاوٹ 
لقمۂ حرام کا ایک وبال یہ بھی ہے کہ یہ دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ کا سبب بن جاتا ہےجیساکہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ايک شخص کا ذکر کيا جو طويل سفر کرتاہے،جس کے بال پریشان اوربدن غبار آلود ہےاور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر يا ربّ! يا ربّ! کہتاہے حالانکہ اس کا کھانا حرام ہو، پینا حرام ، لباس حرام، اورغذا حرام،پھر اس کی دعاکیسے قبول ہو گی۔(2)

 لقمۂ حرام قبولیتِ اعمال میں رکاوٹ

جس طرح لقمۂ حرام کی نحوست سے دُعاؤں کی قبولیت رک جاتی ہے اسی طرح نیک اعمال بھی قبولیت کی منزل تک نہیں پہنچ پاتےجیساکہ مَحبوبِ ربُّ العالمین، جنابِ صادق وامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: اے سعد (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )!اپنی غذا پاک کر لو! مستجابُ الدعوات ہو جاؤ گے، اُس ذاتِ پاک کی قسم جس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تفسیر ابن عربی،پ۳، البقرة، تحت الآیة:٢٧٦ ،۱/۱۱۴
2… مسندامام احمد ، مسند ابی ھریرہ ،۳ /۲۲۰،حدیث:۸۳۵۶