یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِیِ الصَّدَقٰتِؕ (پ ۳،البقرة:۲۷۶)
ترجَمۂ کنز الایمان:اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔
اس (آیت)سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ مومن کے لئے سود میں برکت نہیں یہ کافر کی غذا ہوسکتی ہے مومن کی نہیں ، گندگی کا کیڑا گندگی کھا کر جیتا ہے بلبل پھول کو۔ لہذا اپنے آپ کو کفار پر قیاس نہ کرو کافر سود لے کر ترقی کرے گا مومن زکوٰۃ دے کر۔دوسرے یہ کہ سود کے پیسہ سے زکوۃ خیرات قبول نہیں ہوتے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً ایسا کوئی مُسلمان نہیں ہوگا جوقرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات کے باوجود بھی سُود سے باز نہ آئے اور اسے اپنی معاشی ترقّی کا ضامن سمجھے۔یقیناًسود اور اس کے علاوہ دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ حرام مال دنیا و آخرت کی تباہی کا باعث ہے آیئے اسی ضمن میں مالِ حرام کی تباہ کاریاں بھی ملاحظہ کیجئے۔
جیسی غذا ویسے کام
مال حرام کا وبال یہ ہے کہ جب لقمۂ حرام پیٹ میں پہنچتا ہےتو اس سے بننے والا خون انسان کو مزید برائیوں پر ابھارتا ہے ۔یوں وہ برائیوں کےدلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور اپنی عاقبت برباد کربیٹھتاہے۔چنانچہ شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:کھایا جانے ولا ہر لقمہ اپنے ہی جیسے افعال کا سبب بنتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… نور العرفان، پ۳، البقرة، تحت الآیة:۲۷۶