وہ چھتیس مرتبہ زنا سے بھی سخت ہے۔(1)
1. حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح(بڑے بڑے) ہیں،ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟۔ کہا:یہ سُود خور ہیں۔(2)
2. حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے راویت ہے کہ محسنِ کائنات،فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنےفرمایا:سُود سے(بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو،مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔(3)
علّامہ عبدُ الرؤف مَناوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:سود کے ذریعے مال میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہےمگر سود لینے والے شخص پر (مال کی) تباہی و بربادی کے جو دروازے کھلتے ہیں ان کی وجہ سے وہ مال کم ہوتے ہوتے بالآخر ختم ہوجاتا ہے۔(4)سودی مال کی ہلاکت و تباہی کے بارے میں ارشادِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند امام احمد،مسند الانصار، ۸/۲۲۳، حدیث:۲۲۰۱۶
2…ابن ماجه،کتاب التجارات،باب التغلیظ فی الربا،۳/۷۲،حدیث:۲۲۷۳
3…مسندامام احمد ،مسند عبدالله بن مسعود،۲/۵۰، حدیث:۳۷۵۴
4… فیض القدیر،۴/۶۶،تحت الحدیث:۴۵۰۵