میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ معاوضہ مالیہ میں ایک مقدارِ مال کا بغیر بدل و عوض کے لینا ہے یہ صریح ناانصافی ہے ۔٭دوم سُود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سُود خوار کو بے محنت مال کا حاصل ہونا تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی معاشرت کو ضَرَر (نقصان) پہنچاتی ہے۔٭ سوم سُود کے رواج سے باہمی موَدَّت (محبّت) کے سُلوک کو نُقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سُود کا عادی ہوتو وہ کسی کو ”قرضِ حسن“ سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا ۔ ٭چہار م سُود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بےرحمی پیدا ہوتی ہے اور سُود خوار اپنے مَدیُون (مقروض)کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے اس کے علاوہ بھی سُود میں اور بڑے بڑے نقصان ہیں اور شریعت کی مُمانَعَت عین حکمت ہے۔
سُود کی مذمت میں 4احادیثِ مُبارکہ
1. حضرت سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوۡلُ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے سُود لینے والے اور سُود دینے والے اور سُود کا کاغذ لکھنے والے اور اُس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اورفرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔(1)
2. حضرت سَیِّدُنا عبدُاللہ بن حَنْظَلَہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سُود کا ایک دِرہم جس کو جان کر کوئی کھائے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب المساقاة...الخ، باب لعن اٰکل الربا ومؤکله، ص۸۶۲،حدیث:۱۵۹٨