Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
44 - 67
اس نے سُود پر لی گئی رقم سے جومصنوعات( Products) تیار کیں ان کی قیمت میں پندرہ فیصد اضافہ کردیا۔ یوں اُس صنعت کار نے سُود کی رقم اپنی مصنوعات سے حاصل کرلی لہٰذا اُس کا بھی فائدہ ہوگیا۔لیکن اس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑا کہ جب اشیاء کی قیمتیں اسکی قوتِ خرید سے بڑھ گئیں اور ضروریاتِ زندگی کی چیزیں خریدنا بھی ان کے لئے مشکل ہوگیا۔اسی طرح کچھ کمپنیاں اپنی پروڈکشن بڑھانے اور مارکیٹ میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لئےتشہیر (Advertisement) کا سہارا لیتی ہیں ،عموماً اس تشہیر کے لئے سُود پر پیسہ لیا جاتا ہےاور اس سُود کی ادائیگی بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کے پیسوں سے ہی کی جاتی ہےغرض اس ظلم و ناانصافی اور معاشی تباہی کی ابتداء سُود (Interest) نے کی ۔
سُود کا اُخروی نقصان
یقیناً سُود ایک ایسی برائی ہے جس نے ہمیشہ مَعِیْشت کو تباہ کیا ہے،قرآن و حدیث میں سُود کی نہایت سخت الفاظ میں مذمّت بیان کی گئی ہے ،حتی کہ سُود سے باز  نہ آنے والوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اسکے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے لڑائی کرنے والوں کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۲۷۸﴾ فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا 
ترجَمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو!اللہسے ڈر و اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سُود اگر مسلمان ہو ۔پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور