Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
43 - 67
 نظام میں تمام لوگوں کی ذاتی ملکیتوں کوان کی مرضی کے خلاف جبراً (زبردستی) چھین کر ایک مخصوص جماعت کی ملکیت میں دے دیا جاتا ہے البتہ اس کے بدلے ایک حد  تک ان کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں مالداروں  کو اتنی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ وہ دولت سے اپنی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امیر، امیر تر اور غریب، غریبتر ہوتا جاتا ہے ۔اس کے برعکس اسلام کے معاشی نظام میں نہ اشتراکیت کی قید  ہے نہ سرمایہ داریت کی کھلی آزادی، بلکہ یہ نظام تقویٰ،احسان، ایثار، عدل، اخوت، تعاون، توکّل اور قناعت جیسی عظیم اخلاقی قَدروں پر قائم ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کو دیگر تمام نظاموں پر فوقیت حاصل ہے ۔
معیشت کی تباہی میں سُود کاکردار
بدقسمتی سے اس وقت ہمارے ہاں جو معاشی نظام رائج ہے وہ سرمایہ داریت کا نظام ہے اور اس پورے نظام کی عمارت ”سُود“ کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ مثلاً: ایک شخص نے سُودی ادارے میں دس فيصد سُود پر دس لاکھ روپے جمع کروائے۔اُس ادارے نےوہی دس لاکھ روپے پندرہ فیصد سُود پر صنعت کار  کو دیئے ، جب مہینہ پورا ہوا تو اس صنعت کار نے پندرہ فیصد سُود ادارے کو دیا، ادارے نے دس فیصد سُود رقم کے مالک کو دیا اور پانچ فیصد خود رکھ لیا ۔رقم کے مالک کوبھی فائدہ ہوا اور سُودی ادارے کو بھی مگر جس صنعت کار نے سُود ادا کیا اسے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ