Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
42 - 67
میں تمام مُسلمان غنی ہوچکے تھے اورکوئی بھی زکوٰۃ کا مستحق نہیں تھا ۔اس کی ایک وجہ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا عدل وانصاف تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ  اُس دور میں مُسلمانوں کی تمام تر کاروباری سرگرمیاں شرعی حُدود کے اندر رہ کرہوتی تھیں گویا کہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ  انہوں نے معاشی میدان میں بے مثال ترقّی  کی ،یہاں تک کہ  ہر طرف مال ودولت کی فراوانی ، آسودگی اور خوشحالی عام ہوچکی تھی اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی ترقی  کیلئے ہر طرح کی آزادی کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضامندی اور شریعت کی قید و  پابندی ضروری ہے ۔
معاشی بحران کا سبب
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے معاشی اصول حقیقی ترقّی اور خوشحالی کے ضامن ہیں  اور ان کی خلاف ورزی ایسی معاشی برائیاں پیدا کرتی ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔کسی بھی جگہ آنے والے  معاشی بحران کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سرمائے اور دولت کا چند لوگوں اور چند اداروں کی تجوریوں میں رُک جانابھی ہےکیونکہ سرمائے کا چند ہاتھوں میں ٹھہر جانا اعتدال اور توازُن کو ختم کردیتا ہے اور درحقیقت یہی عدمِ توازُن معاشی بحران کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں دو قسم کے معاشی نظام رائج ہیں۔٭ ایک اشتراکیت اور ٭دوسرا سرمایہ داریت ، لیکن یہ دونوں نظام اِفْراط و تَفْریط کا شکار ہیں کیونکہ  اِشْتِراکی