دوپیسے کی خاطر نماز کے لئے اپنا کاروبار چھوڑنا گوارا نہ کیا نیز حُصُولِ مال میں حرام و حلال کا خیال نہ رکھا تو تنگ زندگانی کے بھیانک شکنجوں میں پھنسنا ہمارا مقدر ہوگا۔ اَلْاَمَانُ وَالْحَفِیْظ
ایک وسوسے کاجواب
ہوسکتا ہے بعض لوگوں کے ذہن میں شیطان یہ وسوسہ پیدا کرتا ہو کہ اسلام نے تجارتی مُعاملات میں بہت زیادہ سختیاں اور پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے مُسلمان معاشی ترقّی سے محروم ہیں اس کے برعکس اسلامی قُیُودات سے آزاد غیر مُسلم قومیں دن بہ دن ترقّی کرتی جارہی ہیں ۔
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت، مجدّدِدین و ملت، پروانۂ شمعِ رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 17صفحہ 360میں اس شیطانی وسوسے کی کاٹ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:تجارتِ حرام کے دروازے (جو)آج کل بکثرت کھلے ہیں ان کی بَنْدِش (روک تھام)کو اگر تنگی سمجھا جائے تو مجبوری ہے وہ تو بےشک شرعِ مطہر نے ہمیشہ کیلئے بندکئے ہیں۔ جو آج بے قیدی(آزادی )چاہے کل نہایت سخت شدید قید میں گرِفتار ہوگا اور جو آج احکام کا مُقَیَّد(پابند)رہے کل بڑے چین کی آزادی پائے گا۔ دنیا مُسلمان کےلئے قید خانہ ہے اور کافر کےلئے جنت ۔ مُسلمانوں سے کس نے کہا کہ کافروں کی اموال کی وُسعت اور طریقِ تحصیلِ آزادی اور کثرت کی طرف نگاہ پھاڑ کر دیکھے ، اے مسکین!تجھے تو کل کا دن سنوارنا ہے۔