Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
38 - 67
اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ (پ۱۴، النحل:۹۷)
 ہو یا عورت اور ہو مسلمان،تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے۔
صدر الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی اس آیتِ مُبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی دنیا میں رزقِ حلال اور قناعت عطا فرما کر اور آخرت میں جنّت کی نعمتیں دےکر(اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں حیاتِ طیّبہ عطا فرمائے گا)۔ مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اس کی زندگانی دولت مند کافِر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزیاللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)کی طرف سے ہے جو اس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافِر جو اللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)پر نظر نہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج و تَعَب (دُکھ اور تکلیف)اور تحصیلِ مال (مال حاصل کرنے) کی فکر میں پریشان رہتا ہے۔
یاد رہے!کہ الله عَزَّ  وَجَلَّ نے انسان کو دنیا میں محض  بے بس اور مجبور بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اسے اچھائی اور برائی کا شعور بھی عطا فرمایا ہے نیز قرآنِ پاک میں یہ بھی واضح کردیا کہ کِن خُوش بختوں کو اچھی زندگی ملے گی اور کون سے بدبخت لوگ تنگ زندگانی کا شکار ہوں گے۔اب ظاہر ہے جیسے ہم اعمال کریں گے  ویسی ہی جزا پائیں گے۔ اگر ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی اطاعت وفرمانبرداری کے راستے پر چلیں گے تو وہ ہماری زندگی کو ”حیاتِ طیّبہ“میں تبدیل فرما دے گا اوراگراس کی نافرمانیوں اور برائیوں کا راستہ اختیار کیا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی یاد سے رو گردانی کی،نماز کا وقت ہو جانے کے باوجود