Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
37 - 67
اس کو فراخِ خاطر (کُشادہ دلی)اور سُکونِ قلب میسّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اور حرص کے غموں سے کہ ”یہ نہیں وہ نہیں“ حال تاریک اور وقت خراب رہے اور مومن مُتوکِّل کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو ”حیاتِ طیّبہ“ کہتے ہیں۔حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خوفِ خدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زندگانی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے منہ پھیرنے کی آفتیں کس قدر شدید ہیں کہ انسان کی  معیشت تنگ ہوجائے گی ، وہ ناجائز وحرام کاموں میں  مبتلا ہوجائے گا،قناعت کی دولت چھن جائے گی اور حرص کی بھیانک آگ ہر طرف سےاسے  اپنی لپیٹ میں لے لے گی،جتنا بھی کمالے گا اس کی حرص کی آگ نہیں بجھے گی۔وہ مال کو پُرسکون زندگی کا ذریعہ سمجھے گا مگر دولت وشہرت حاصل ہونے کے باوجوداُسےقلبی سکون حاصل نہ ہوگا۔ آرام دہ بستر تو ہوگا لیکن چین کی نیند میسر نہ ہوگی۔خواہشات کا سیلاب  اسکے  صبرو شکر اور خوشیوں کی عمارت کو بہا لے جائے گا اور طرح طرح کے  غم اسکی زندگی کو تاریک کردیں گے، غرض وہ سکون کی اُس دولت سے محروم رہے گا جو حیاتِ طیِّبہ (اچھی زندگی )کی صورت میں ایک مومن مُتوکِّل کو حاصل ہوتی ہے ۔اللہعَزَّ  وَجَلَّ اپنے پاک کلام میں اُس ”حیاتِ طیِّبہ“ کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
مَنْ عَمِلَ صَاالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوْ پ۱۴، النحل:۹۷)
ترجَمۂ کنز الایمان: جو اچھا کام کرے مرد