Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
36 - 67
نسلِ انسانی کو اپنے آہنی پنجوں میں دبوچ کر اسکا خون نچوڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں بھتہ خوری،لُوٹ ماری،قتل و غارت گری  اور اس طرح کے دیگر جرائم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ زندگانی تنگ ہوکر رہ گئی ہے۔
تنگ زندگانی کی وجہ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا ہم میں سے کسی نے سنجیدگی کے ساتھ کبھی اس بات پر غور کیا کہ آخر ہماری زندگانی اس قدر تنگ کیوں ہوگئی؟ہم بلندیوں سے پستیوں کی طرف کیوں آگئے؟ اس قدر معاشی بد حالی کا شکار کیوں ہوگئے ؟  کاروبار کے لاتعداد وسائل،روزگار کے اَن گنت مواقع اور ترقّی کے بے مثال ذرائع کے باوجود آخرکارہم روز افزوں مَعاشی تنزلی کا شکار کیوں ہوتےجارہے ہیں ؟ذرا غور کیجئے!کہیں ان ساری پریشانیوں کی وجہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یاد سے غفلت تو نہیں…؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنۡ ذِکْرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا (پ۱۶، طٰهٰ:۱۲۴)	
ترجَمۂ کنز الایمان: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کیلئے تنگ زندگانی ہے ۔
	صدرالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی  خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:تنگ زندگانی یہ ہے کہ ہدایت کا اِتّباع (پیروی) نہ کرنے سے عملِ بد اور حرام میں مبتلا ہو یا قناعت سے محروم ہو کر  گرفتارِحرص (لالچ میں گرفتار)ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی