بددیانتی ،جھوٹ ، دھوکے بازی اور بالخصوص سُود کی برائی ہمارے کاروبار کا حصہ بن چکی ہے ۔آج ہماری اکثریت کاروبار اور تجارت میں خدا کی یاد سے غافل رہتی ہے ، اگر اس دوران ہماری زبان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام آتا بھی ہے تو جھوٹی قسم کھانے اور خود کو ایک مہذَّب و خُوش اخلاق شخصیّت کے طور پر مُتعارف کروانے کیلئے تاکہ سامنے والا ہماری دینداری اور خُوش اخلاقی سے متاثر ہوکر ہم پر اندھا اعتماد کرلے اور ہم اس کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائیں ۔انجامِ آخرت سے بے خوف نہ جانے کتنے ہی تاجر(Business men)دنیا کے عارضی نفع کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مال لُوٹنے کے باوجود آج ہماری معاشی صورتِ حال انتہائی اَبتر ہے اور پورا معاشرہ ایک بدترین معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہےظاہر ہے ہمارے کاروبار اور بازار میں جب اس قدر کثرت سے برائیاں پائی جائیں گی تو معیشت تباہ نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا۔آج جسے دیکھو وہی معاشی ناہمواری اور فقر و تنگ دستی کے سبب پریشان ہے۔اس معاشی بحران کی زَد میں آکر کسی کی زمین گئی تو کسی کا گھر بک گیا،کوئی اپنی گاڑی بیچ رہا ہے تو کوئی گھر والوں کے زیور۔بوڑھا باپ بسترِ علالت پر لیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے لیکن بے روزگار بیٹے کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ باپ کے علاج کیلئے دواؤں کا انتظام کرسکے،غریب باپ جب شام کو خالی ہاتھ گھر پہنچتا ہے تو بچوں کا حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنا اسے غمزدہ اور افْسُردہ کردیتا ہے۔غربت،بے روزگاری اور معاشی ناہمواری کے عفریت (بُھوت)