Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
33 - 67
لینے والے) کا بھی نقصان ہوگا ۔  
.14ملازم نے اگر مَرَض کی وجہ سے چھٹّی کر لی یا کام کم کیا تومُسْتاجر(یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اُس) کو تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر اِس کی صورت یہ ہے کہ جتنا کام کم کیا صرف اُتنی ہی کٹوتی کی جائے مَثَلاً 8گھنٹے کی ڈیوٹی تھی اور تین گھنٹے کام نہ کیا تو صرف تین گھنٹے کی اُجرت کاٹی جائے، پورے دن بلکہ آدھے دن کی اُجرت کاٹ لینا بھی ظلم ہے۔(1) 
.15متولیان مسجِد کی رِضامندی کی صورت میں امام و مُؤَذِّن عُرْف سے زائد چُھٹّیوں میں اپنا نائب دیدیا کریں تو تنخواہ نہیں کاٹی جائے گی۔
.16امام،مُؤَذِّن یا کسی بھی دکان وغیرہ کا ملازِم سخت بیمار ہو جائے یا اُس کے یہاں کوئی انتقال کر جائے تو اِن صورَتوں میں ہونے والی چُھٹّیوں میں وہاں کا عُرف دیکھا جائے گا اگر تنخواہ کاٹنے کا عُرف ( یعنی معمول) ہے تو  کاٹ لی جائے ورنہ نہ کاٹی جائے۔
.17امام یا مُؤَذِّن یا مدرِّس یا کسی ملازِم کا گھر دُور ہے ،’’پیّا جام ہڑتال ‘‘کی وجہ سے سواری نہ ملی یا ہنگاموں کے صحیح خوف کے سبب چھٹی ہو گئی تو اگرپہلے سے طے ہو گیا تھا کہ ایسے مواقع پر تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی یا وہاں کاعُرف (یعنی معمول) ہی ایسا ہو کہ ایسے مواقع پر کٹوتی نہیں ہوتی تو اس طرح کی چھٹی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تفصیل کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد19 صفحہ515 تا 516 دیکھ لیجئے