چیزیں) سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رَمَضانُ الْمبارَک کی تشریف آوری ہو تو روزوں کے مسائل ، مالِکِ نصابِ نامی(یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والے مال کے نِصاب کا مالک) ہو جائے توزکوٰۃ کے مسائل، صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو مسائلِ حج،نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل ،تاجِر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مُزارِع یعنی کاشتکار(وزمیندار)کھیتی باڑی کے مسائل،ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل۔ وَ عَلٰی ھٰذَاالْقِیاس(یعنی اور اِسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہرمسلمان عاقِل و بالغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔(1)
اجارہ کے مسائل سیکھنافرض ہے
دورِ حاضر میں بہت سے افراد تجارت کے بجائے ملازمت کے ذریعے اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرتے ہیں لہٰذا انہیں چاہئے کہ اجارے کے مسائل سیکھیں اور اپنی روزی کو حرام کی آمیزش (ملاوٹ)سے بچائیں۔شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ”حلال طریقے سے کمانے کے 50مدنی پھول“ صفحہ 1پر فرماتے ہیں:جس کو مُلازم رکھنا ہے اُسے مُلازم رکھنے کے اور جس کو مُلازمت کرنی ہے اُسے مُلازمت کے ضروری اَحْکام جاننے فرض ہیں۔آئیے!اس رسالے میں بیان کئے گئے چند مدنی پھول مُلاحظہ کیجئے۔
1. سیٹھ اور نوکر دونوں کے لئے حسبِ ضرورت اِجارے کے شرعی احکام سیکھنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ، ۲۳/۶۲۳،۶۲۴