ہو تو انکار نہ کرے جو شخص اس طرح کا عمل کرے گا اُس نے مال کے سانپ(یہاں مال کو’’سانپ‘‘سے تشبیہ دی گئی ہے)سے اُس کا(مُفید حصّہ یعنی)جوہر اور تِریاق(زہر مُہرہ یعنی زہر کی دوا جو زہر کا اُتار کرتی ہے)بھی لے لیا اور(خود سانپ کے)زَہر سے محفوظ (بھی) رہا،ایسے آدمی کومال کی کثرت نقصان نہیں پہنچاتی لیکن یہ کام وُہی شخص کر سکتا ہے جس کے قدم دین میں مضبوط ہوں اور اُس کے پاس کثیر علمِ دین ہو۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی آگے چل کر مال و دولت سے بچ کر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جس طرح نابینا کا بِینا(یعنی آنکھ والے)کی طرح پہاڑوں کی چوٹیوں اور دریاؤں کے کَناروں تک پہنچنا اور کانٹے دار راستوں سے گزرنا ممکن نہیں اِسی طرح عام آدمی کا مال و دولت کی آفتوں سے بچنا بھی ناممکن ہے۔(1) مال و دولت پرہیز گار اور بکثرت علمِ دین رکھنے والا ہی چاہے تو لے سکتا ہے کہ شریعت کے مطابِق اِسے حاصِل اور شریعت ہی کے مطابِق اِسے استِعمال کر سکتا ہے اورمال کی آفتوں سے خود کو بچا سکتا ہے۔
کسبِ حلال کیلئےعلمِ دین ضروری ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ مال ودولت کی آفتوں سے بچنے کسبِ حلال حاصل کرنےکے لئے علمِ دین کا ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ مال کی آفتوں اور حرام روزی سے وہی شخص بچ سکے گا جسے حلال و حرام کا علم ہوگا شاید اسی لئے اِمَامُ الْعَادِلِیْن ، سَیِّدُ المُحَدَّثِیْن حضرت ِ سَیِّدُنا فاروق ِاعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… اِحیاءُ العلوم ،۳/۳۲۵