رغبت دلاتے ہوئی حُجۃ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں:مال لینے،چھوڑنے،خرچ کرنے اور روکنے میں نیَّت صحیح ہونی چاہئے۔مال اِس لئے حاصِل کرے کہ عبادت پرمددحاصِل ہواورمال چھوڑنا ہو تو زُہد(یعنی دنیا سے بے رغبتی)کی نیّت سے اور اُسے حقیر سمجھتے ہوئے چھوڑے۔جب یہ طریقہ اختیار کرے گا تو مال کا موجود ہونا اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا،اِسی لئے امیرُالْمُؤمنین حضرتِ مولائے کائنات،علیُّ المُرتَضٰی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:اگر کوئی شخص تمام رُوئے زمین کا مال حاصِل کرے اور اس کا ارادہ رِضائے الٰہی کاحُصول ہو تو وہ زاہد(یعنی دنیا سے بے رغبت)ہے اور اگرتمام مال چھوڑ دے لیکن رِضائے خداوندی مقصود نہ ہو تو وہ زاہد نہیں ہے۔پَس آپ کی تمام حَرَکات و سَکَنات اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں اور عبادت سے باہَر نہ ہوں یا عبادت پر مدد گار ہوں۔جو چیزیں عبادت سے زیادہ دُور ہیں وہ کھانا کھانا اورقَضائے حاجت(یعنی استنجا)ہے لیکن یہ دونوں بھی عبادت پرمدد گار ہیں جب ان سے آپ کا مقصود یہ ہو گا یعنی عبادت پر قوّت اوردل جمعی حاصِل کرنے کی نیَّت ہو گی تو یہ کام بھی آپ کے حق میں عبادت ہوں گے۔اسی طرح جو چیزیں آپ کی حفاظت کرتی ہیں مَثَلًا قمیص،اِزار(یعنی پاجامہ) بچھونا اوربرتن وغیرہ تو ان سب میں بھی اچھی نیّت ہونی چاہئے کیوں کہ دین کے سلسلے میں ان تمام چیزوں کی ضَرورت ہوتی ہے اور جو کچھ ضَرورت سے زائد ہو اُس سے بندگانِ خدا کو نفع پہنچانے کی نیّت ہونی چاہئے اورجب کسی شخص کو اس کی ضَرورت