راہ ِخدامیں خرچ کرتے رہا کرو۔(1)
مالداروں کیلئے لمحۂ فکریہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینی قَطعی حلال مال رکھنے والے اپنا مالِ حلال دونوں ہاتھوں سے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں لٹانے والے کے حسابِ قیامت کی اس لرزہ خیز حکایت پر نظر رکھتے ہوئے مال داروں کو غور کرنا اور قِیامت کے ہو شرُبا اَھوال(یعنی دہشتوں اور گھبراہٹوں)سے ڈرنا چاہئے اور جو لوگ محض دُنیوی حرص کے سبب مال اِکٹھا کئے جاتے،اس کیلئے در بدر بھٹکتے پھرتے اور مال بڑھانے کے نظام کو بہتر سے بہترین بناتے چلے جاتے ہیں اُنہیں اپنی اس رَوِش پر نظرِ ثانی کر لینی چاہئے اور جو صورت دنیا و آخرت دونوں کیلئے بہترہو وہ اختیار کرنی چاہئے۔
مال و دولت کے متعلق اچھی اچھی نیتیں
حلال مال جمع کرنا فی نفسہٖ مُباح ہے(یعنی نہ اس میں ثواب ہے نہ گناہ)۔اگر کوئی علمِ نیّت رکھنے والا اِس کی اچّھی اچّھی نیّتیں کر لے تو خواہ مالِ حلال کے ذَرِیعے اَربوں پتی بن جائے اُس کا مال اُس کی آخرت کیلئے نقصان دہ نہیں۔مگر یاد رہے! رسمی طور پر صرف زَبان سے نیّت کے الفاظ ادا کر لینے کو نیّت نہیں کہتے،نیّت دل کے اُبھار اور پکے ارادے کا نام ہے یعنی جو نیّت کررہا ہے وہ اُس کے دل میں اِس طرح موجود ہو کہ میں نے 100 فیصدی ایساکرنا ہی کرنا ہے۔مال ودولت کے بارے میں نیّت کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… استیعاب فی معرفةالاصحاب ،۲/۳۸۹