Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
24 - 67
سراپا عبرت ہے،ملاحظہ فرمایئے چُنانچِہ 
ایک بار سرکار عالی وقارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے پاس تشریف لا کر فرمایا:اے اصحابِ محمد! آج رات اللہ تعالیٰ نے جنَّت میں تمہارے مکان اور منزلیں نیز میرے مکان سے کس کا کتنا دُور مکان ہے سب مجھے دکھائے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے جلیل القدر اصحابِ کرام کی منزلیں فردًا فردًا بیان کرنے کے بعد حضرتِ عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا:اے عبدالرحمٰن(میں نے دیکھا)کہ تم مجھ سے بَہُت دُور ہوگئے یہاں تک کہ مجھے تمہاری ہلاکت کا خَدشہ ہونے لگا پھر کچھ دیر بعد تم پسینے میں شَرابور مجھ تک پہنچے تو میرے پوچھنے پر تم نے بتایا: مجھے حساب کے لیے روک لینے کے بعد مجھ سے پوچھ گچھ شُروع ہوگئی کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟راوی کہتے ہیں،حضرتِ عبدالرحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سُن کر رو پڑے اور عرض کی:یہ سو اُونٹ جو آج ہی رات مِصر سے مالِ تجارت سَمیت آئے ہیں،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گواہ بنا کرانہیں مدینۂ پاک کے غریبوں اوریتیموں پر صَدَقہ کرتا ہوں۔(1) 
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  کی خدمت میں عرض کی:مجھے اندیشہ ہے کہ کثرت ِ مال کہیں (آخرت میں)مجھے ہلاکت میں نہ ڈال دے ! انہوں نے فرمایا:اپنا مال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ دِمشق ،۳۵/۲۶۶